- مقامی حکومتوں کے قانون میں ترمیم ہو جس میں واضح طور پر دیہات کے روزمرہ انتظام کے لیے یونین کونسل سے ہٹ کر درج ذیل کاموں کے لیے مستقل ادارے قائم کیے جائیں اور انہیں افرادی قوت اور مشینری فراہم کی جائے۔ ان کے باقاعدہ دفاتر ہوں۔ ایک دفتر پانچ سےدس دیہات (بیس ہزار کی آبادی) کی روزانہ ضروریات پوری کر سکنے کے قابل ہو۔
a. پینے کے پانی، نکاسی آب ، انتظام اور صفائی ستھرائی (واسا کی طرز کے ادارے)
b. ہارٹیکلچر کے ادارے جو قبرستان، پارک، کھیل کے میدان اور سڑکوں اور نہروں کے اطراف درختوں اور خوبصورتی کے ذمہ دار ہوں۔ (پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کو شہروں سے باہر توسیع بھی دی جا سکتی ہے)۔ محکمہ انہار اور شاہرات سے درختوں کا انتظام واپس لے لیا جائے۔
c. فائر بریگیڈ اور 1122
d. ڈسکوز کے پوائنٹس جو بجلی کی ترسیل میں خلل دور کرنے اور ٹرانسفارمرز وغیرہ تبدیل کرنے اور انہیں سرکاری خرچ پر مرمت کروانے کے ذمہ دار ہوں
e. دیہات میں تعمیرات کے لیے اجازت نامہ جاری کرنے والے ادارے ۔ دیہات میں تعمیرات کے بائی لاز متعارف کروائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر سے زمین کی کیٹگری اور کلاسیفیکیشن تبدیل کرنے کا اختیار واپس لیا جائے۔ - نئی چھوٹی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری منتخب ضلع کونسل بذریعہ قانون سازی دے۔ بڑی سکیمیں کی منظوری پنجاب اسمبلی کا اختیار بنایا جائے۔
- دیہات میں ترقی کی ضرورت کے معیارات وضع کیے جائیں۔ بجلی، گیس ، پینے کے پانی کی سکیموں، نکاسی آب کے ڈھانچوں، نئے سکول کھولنے اور موجودہ سکولوں کی اپ گریڈیشن وغیرہ طے شدہ تحریری معیارات کے تحت ہو۔ ا س سلسلے میں منتخب نمائندوں اور بیوروکریسی کے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کیا جائے۔
- ماڈل دیہات کے نام پر کچھ علاقوں کو اوور ڈیولپ کرنے اور دیگر کو انڈرڈیولپ رکھنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
- صوبائی یا مقامی حکومت دیہی شہریوں سے وہ تمام ٹیکس خود وصول کرے جو پینے کے پانی، صفائی اور میونسپل سروسز کے عوض شہروں میں رہنے والے شہریوں سے وصول کرتی ہے۔ دیہات میں واش، کمیونٹی، چندے اور اپنی مدد آپ کے تمام طریقے ختم کیے جائیں۔
- کسی بھی سروس میں نقص یا خلل کو مستقل ادارے خود ٹھیک کریں۔ دیہی شہریوں کے پاس صرف شکایت درج کرانے کے نمبر ہونے چاہییں۔
a. مستقل اداروں کی نگرانی کے لیے دیہی گورننس اتھارٹیاں قائم کی جائیں ۔
b. دیہی شہریوں ،منتخب نمائندوں اور منتخب کونسلوں کو مستقل دیہی میونسپل اداروں کی نگرانی سونپی جائے۔
c. یونین کونسل کے منتخب ادارے کو ان اداروں سے الگ رکھا جائے۔ - دیہات سے اکٹھے ہونے والے ٹیکسز کا زیادہ سے زیادہ حصہ دیہی ترقی اور دیہی انتظام کے لیے خرچ ہو۔
- مقامی حکومتوں، صوبائی یا قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی ترقیاتی تجاویز پر مستقل اداروں سے رائے لی جائے اور اونچی سڑکیں اور سولنگ لگانے وغیرہ پر سخت قدغن ہو ۔ دیہی شہریوں کے لیے اونچے پلیٹ فارم والی سڑکیں اور نالیاں عذاب بن جاتی ہیں کیونکہ سب کو اپنے گھر دوبارہ سے تعمیر کرنے پڑتے ہیں۔ دیہات کا لیول مستقل ادارے برقرار رکھیں تاکہ تاریخی مساجد، حویلیاں اور عمارتیں تہہ خانوں میں تبدیل ہونے سے بچ سکیں۔







