کل کسی نے بظاہر ایک مجنونانہ مشورہ دیا کہ آلو کی آدھی کھڑی فصل تلف کر دی جائے تو باقیماندہ پیداوار کو مناسب ریٹ مل سکتا ہے۔ یقین مانیں یہ مشورہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔ پنجاب کی زراعت کا بحران اصل خوراک کی پیداوار کی بہتات اور وفور کا بحران ہے جس پر لاگت دنیا بھر کی لاگت سے زیادہ آتی یے۔ ہماری ریاست کی زرعی پالیسی پیداوار بڑھانے کے یک نکتی خبط کے گرد گھومتی ہے سیڈ، فرٹیلائزر اور پیسٹیسائڈ انڈسٹری کے زیر اثر یہ پالیسی ان تینوں انڈسٹریوں، خود سرکار اور انرجی سیکٹر کے لیے بے انتہا فائدہ مند ہے جبکہ کسان اور صارف کے لیے وبال جان ہے کہ بہتات کے دنوں میں کسان مارے جاتے ہیں اور خسارے سے بدکے کسان جس سال فصل نہیں لگاتے، اس برس صارفین پستے ہیں۔ دہائیوں تک ہماری ریاست کی ترجیح کپاس جیسی کیش کراپ رہی جبکہ موجودہ ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ فوڈ سیکورٹی سرکار کا واحد منتر بن کر رہ گیا ہے۔ پچھلے چند برس میں آلو، پیاز اور لہسن کے ایسے لایعنی اور غیر ضروری بیج مارکیٹ میں آئے ہیں جن سے انڈسٹری نے اربوں کمائے ہیں جبکہ ان بیجوں کی پیداوار مارکیٹ میں آتے ہی یوں بے وقعت ہوئی کہ کسانوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ضرورت، مانگ، طلب، تجارت اور ممکنہ استعمال جیسی اصطلاحات تو زرعی یونیورسٹیوں اور مانسیںٹو کی لیبارٹریوں میں بیٹھے ریسرچرز کی لغت میں موجود ہی نہیں۔ وہ دھڑا دھڑ ورائٹیاں بنا کر مارکیٹ میں پھینک رہے ہیں اور کمپنیاں مال بنا رہی ہیں۔ کسانوں کے کسی ایک فصل پر ایک چوتھائی سے لیکر ایک تہائی تک خرچ ان بیجوں پر ہو جاتا ہے جو کئی گنا پیداوار تو دے دیتے ہیں مگر وہ پیداوار طلب اور کوالٹی پر حاوی ہو کر کسانوں کو مزید خسارے کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
Share this post







