رشید چودھری
2015 کے مقامی انتخابات میں پھسپھسی مقامی حکومتیں بنیں تھیں جن کے پاس نہ اختیار تھا نہ ذمہ داری۔ عملا یہ مقامی کونسلیں تھیں جو لہور کی صوبائی سرکار کی ماتحت تھیں۔ ان حکومتوں نے عوام میں منتخب لوکل گورننس کی کشش ہی ختم کر دی تھی۔ اب یہ عالم ہے کہ پچھلے سات برس سے یہ والا علامتی اہتمام بھی ختم کر دیا گیا یے اور منتخب اور بااختیار مقامی حکومتوں کے نہ ہونے سے صوبے میں لوکل گورننس کی پرائیویٹائزیشن عروج پر پہنچ گئی ہے۔
کہتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں ریلوے، جی ٹی ایس، پی آر ٹی سی، سرکاری اسپتالوں، سکولوں اور سرکاری کارخانوں کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں برباد کیا گیا تاکہ یہ سروسز اور صنعتیں نجی شعبے کے ان سیٹھوں کے کام آئیں جو سیاست میں آ رہے تھے۔ ان سیٹھوں نے سیاست اور کاروبار کو یوں گڈمڈ کیا کہ آج دونوں الفاظ کا ایک ہی مطلب ہے۔ سرکاری وسائل سے کاروبار کرنے کو سیاستدان زراہ عاجزی روزی روٹی کہتے ہیں اور سیٹھ حضرات ایسے کاروباروں کے بل پر سیاست میں نام کمانے کو عزت کہتے ہیں۔
2009 سے ن لیگ، ن لیگ۔ پی ٹی آئی اور پھر ن لیگ کے ادوار میں جو کام صوبے بھر میں انتہائی اہتمام سے کیا جا رہا ہے وہ ہے پرائیویٹائزیشن۔ سکولوں کی، اسپتالوں کی، پینے کے پانی کی اور کوڑا اٹھانے کی۔ فی الحال پرائیویٹ پارٹیوں کو پیسے عوامی وسائل اور بین الاقوامی ڈونرز کی مدد سے حکومت پنجاب دے رہی ہے مگر کوئی دن آتا ہے جب سرکار یہ پیسے بند کر دے گی اور کمپنیاں عوام سے یہ پیسے ویسے ہی وصول کرنا شروع کر دیں گی جیسے بجلی کی سرکاری کمپنیاں کرتی ہیں ۔ اختیار کی نچلی ترین سطح تک منتقلی کے آئینی تقاضے کی پاسداری کا یہ حال ہے کہ گلی محلے کے کوڑا اٹھانے تک کی نگرانی براہ راست صوبائی حکومت کرتی ہے۔ البتہ 80 اور 90 کی دہائی میں پرائیویٹائز کیے جانے والے لوکل پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو دوبارہ سرکاری وسائل سے چلانے کی سعی ہو رہی ہے۔ یار لوگوں کو اس تضاد میں کوئی تضاد بھی نظر نہیں آتا۔
مقامی گورننس اور مقامی انتخابات کے لیے احمد اقبال کے ادارے کے سیمیناروں میں بات ہوتی ہے یا سول سوسائٹی کی منحنی سی آوازیں ہیں جو قبلہ زاہد اسلام صاحب اور دیگر ایکٹوسٹس کی رجائیت پسندی کے طفیل اب تک منتخب مقامی حکومتوں کے تصور سے دستبرداری پر تیار نہیں ہو رہیں۔ جماعت اسلامی بھی پچھلے چند ہفتوں میں ان آوازوں میں شامل ہو گئی ہے کہ وہ کراچی کی طرح پنجاب میں ریلیونٹ ہونے کے لیے مقامی حکومتوں کے انتخاب کو بطور تجربہ استعمال کرنا چاہتی یے۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پی پی پی کے کسی بھی سطح کے کیڈر میں مقامی حکومتوں کی طلب، بھوک اور پیاس نہیں ھے۔
مقامی حکومتیں بن رہی ہیں اور نہ ہی الیکشن ہو رہے ہیں مگر مقامی حکومتوں کے نت نئے قوانین بن رہے ہیں۔ پچھلے سات برس میں ایسے تین قوانین پی ٹی آئی حکومت نے بنائے اور دو ن لیگ نے۔ الیکشن کمیشن بطور ایک آئینی ادارہ مقامی انتخابات کرانے کا پابند ھے اس لیے وہ صوبائی حکومت کو انتخاب کرانے کے لیے وقتاً فوقتاً چٹھیاں بھیجتا رہتا ھے یا بلاتا رہتا ہے۔ اوپری من سے ہی سہی، الیکشن کا پراسیس بھی شروع کرا دیا جاتا ہے اور پھر صوبائی حکومت قانون بدل دیتی(بذریعہ صوبائی اسمبلی یا آرڈیننس) ہے اور یوں پراسیس رک جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں۔ کارکنوں اور عوام میں منتخب مقامی حکومتوں کی کوئی مانگ بے شک نہ ہو مگر ہر قانون کے تحت کونسلیں کاٹنے ہعنی ان یعنی کونسلوں کی حد بندیوں میں پراپرٹی والوں اور سیاستدانوں کی بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ پچھلے سال کے اخیر میں پاس ہونے والے آخری قانون کے تحت کسی بھی گائوں کو کسی اربن یعنی ملحقہ شہری کونسل میں شامل کیا جا سکتا یے۔ پورے صوبے میں اس پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پراپرٹی ڈیلر سیاستدان زیادہ سے زیادہ دیہات کو ‘شہر’ میں شامل کرانا چاہتے ہیں جبکہ کچھ پرانے سیاستدان اپنے دیہات کی نزدیکی شہر میں شمولیت کو اپنے سیاسی کیرئیر کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمشنروں کے پاس کونسل بندیوں کے خلاف بے تحاشہ درخواستیں پہنچیں۔ اب تو معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے ایک کمپنی کی کونسل بندی کے خلاف ایسی درخواست پر پورے قانون پر عملدرآمد روک دیا ہے
قانون، سیاسی نیت اور دلچسپی کے لیول جتنے بھی پھسپھسے اور علامتی ہوں، کاروباری سیاست یا سیاسی کاروبار کرنے والے لوگوں کی ‘روزی روٹی’ اس میں سے بھی نکل ہی آتی ہے۔j







