رشید چوھدری
دیکھیں ناں کل تک آپ ریاست کے ایک طرح کے محسن تھے کہ آپ نے نہ صرف اپنے لیے صاف اور قابل تجدید بجلی کا انتظام کر لیا بلکہ آپ اضافی بجلی ریاستی انتظام کو بھی مہیا کرنے لگے جس سے آپ صارف محض کی بجائے صاف بجلی پیدا کرنے والوں کی صف میں شامل ہو گئے اور ملک کو قابل تجدید توانائی پر منتقل ہونے میں مدد دینے لگے جو خود ریاست کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ آپ کی پیدا کی ہوئی بجلی سے مہنگے درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرنے والے ریاستی انتظام کو تھوڑا سانس لینے کا موقع ملا۔
ریاست کی قابل تجدید توانائی کی پالیسی خود بتدریج مگر تیزی سے قابل تجدید اور صاف توانائی پر منتقل ہونے کی سمت متعین کرتی ہے مگر سولر بجلی پیدا اور استعمال کرنے والوں کے سر پر ماری جانے والی نئی پالیسی ریاست کی اس ترجیح کی بھی نفی کرتی ہے بلکہ لوگوں کو اس معاملے میں سرکار کی مدد کرنے سے بھی روکتی ہے۔
کسی دستوری و قانونی بنیاد اور سنجیدہ مشاورت کے بغیر نافذ ہونے والی نئی پالیسی سولر بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو محسن کی بجائے حریف مانتی ہے جو بجلی پیدا کر کے گویا ریاست کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ نئی پالیسی نما کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آپ بجلی بنا کر خود استعمال نہیں کر سکتے بلکہ بجلی بنا کر سرکاری انتظام کو دیکر اپنی ضرورت کی ساری بجلی صرف سرکاری انتظام سے خرید سکتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پانچ مرلے پر پیاز کاشت کرنے والی کسان فیملی پر یہ پابندی لگ جائے کہ وہ روز کی ہانڈی میں ڈالا جانے والا پیاز صرف مارکیٹ سے خریدیں اور اپنا پیاز بغیر استعمال کیے مارکیٹ میں مارکیٹ کی شرائط اور ریٹ پر بیچ دیں۔
سرکار کا ہاتھ بٹانے والوں کو کار سرکار میں مداخلت کے مرتکب قرار دینے والے اس ویژن کو خلق اور تاریخ جو کہے گی وہ اپنی جگہ پر مگر اس پچھل پیری پالیسی سے سرکاری انتظام کو وہ فائدہ بھی نہیں ہو گا جو اس سے حاصل کرنے کی خواہش ہے یعنی گرڈ چھوڑنے والے صارفین کی تعداد اور رفتار پر روک لگ جائے تاکہ کیپیسٹی پیمنٹس وغیرہ کرنے میں نسبتا آسانی رہے۔
ٹیکنالوجی اور خصوصا عوام اور ماحول دوست سستی ٹیکنالوجی کی مخالفت اور مزاحمت ایک کار لاحاصل ھے۔ آپ اس کی رفتار کم کر کے ترقی کی راہ میں روڑے تو اٹکا سکتے ہیں مگر اس کے یقینی نفوذ کو تادیر روک نہیں سکتے۔







