اربن پنجاب کے پاس آواز ہے، سیاسی طاقت ہے اور وہ صوبے اور صوبے کے ساتھ جڑی حقیقی یا تصوراتی سیاسی طاقت کا بھی مالک ہے۔ میڈیا اور اکیڈیمیا پر اس کی اجارہ داری ہے۔ کالج، یونیورسٹیاں، عدالتیں، اسپتال، انتظامیہ سب بڑے شہروں میں مرتکز ہیں۔ ڈیولپمنٹ اور ہارٹیکلچر اتھارٹیوں اور بلدیاتی اداروں کا ایک جال ہے جو ان شہروں کو رواں دواں رکھتا ہے۔ بجلئ، گیس، ٹیلی فون، پانی اور نکاسی آب کی فراہمی میں مسائل حل کرنے کے لیے اداروں اور اہلکاروں کی ایک فوج ظفر موج موجود ہے۔ قیمتوں کا تعین بھی یہیں ہوتا ہے اور متعینہ قیمتوں پر اشیائے صرف کی فراہمی کا سرکاری انتظام بھی یہیں موجود ہے۔ شہروں میں گورننس کے مسائل ہیں کیونکہ یہاں گورننس کا انتظام ہے۔
دیہی پنجاب ہر صورت میں اس کا محتاج ہے۔
دیہی پنجاب کے پاس آواز تو بالکل نہیں ہے، اس کی سیاسی طاقت بھی ان سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو مسائل کو اربن شہری کے زاویہ نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
دیہی پنجاب کے پاس گورننس نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے۔ گورننس کے نام پر دیہی اشرافیہ اور سیاسی جماعتوں کے سرپرست نیٹورکس کے پاس انفراسٹرکچر بنانے کے کمیشن زدہ ٹھیکے ہیں۔ تھانیدار کی بدمعاشی ہے اور پٹواری کی بادشاہی۔ خوابیدہ سرکاری سکول ہیں جنہیں ایجوکیشن فاونڈیشن کو سپرد کرنے کی آڑ میں پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ سن 70 کی دہائی کا تعمیر کردہ صحت کا ڈھانچہ ہے جو اب محض ڈھانچہ ہی ہے۔ انفراسٹرکچر، پولیس، سکول اور پٹوار کے علاوہ دیہی پنجاب میں گورننس اور ریاست کا وجود ہی نہیں ہے بلکہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت دیہاتیوں کی ذمہ داری ہے۔ تعلیم، صحت اور انصاف ہر سروس پرائیویٹائزڈ ہے۔ بجلی جیسی سرکاری خدمت میں کسی میکانکی خرابی کو دور کرانے کے لیے محکمے کو جو رشوت درکار ہوتی ہے وہ خانہ خدا کے سپیکروں پر اعلانات کر کے اکٹھی کی جاتی ہے۔
مہذب انسانوں کو گورننس کی جن بنیادی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے یعنی پینے کا صاف پانی، گندے پانی کی نکاسی اور گلی محلوں کی صفائی ستھرائی، اس کا تو کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ پینے کا صاف پانی لوکل وینڈرز گھر گھر پہنچاتے ہیں۔ دیہی شہریوں کی اپنی مدد آپ والی کمیٹیاں ہیں جو پرائیویٹ طور پر صفائی ستھرائی کی فراہمی کا ذمہ اٹھاتی ہیں اور اخراجات دیہی شہریوں سے وصولتی ہیں۔ یہ رضاکارانہ ایڈہاک کم از کم انتظام بارش، چندے کی عدم وصولی، کسی مشین کی خرابی یا کمیٹی یا کمیونٹی کے کسی رکن کے منفی رویے کی صورت میں ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ پنجابی دیہات ایک بڑی کچرا کنڈی میں تبدیل ہو گئے ہیں اور ہر وہ خاندان جو قریبی قصبے یا شہر میں مکان کا بھاڑہ بھرنے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ گائوں چھوڑ دیتا ہے۔ اس برین ڈرین سے دیہی شہریوں کی ریاست سے مکالمے کی طاقت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ سرکار کے پاس شہر چلانے کی طرز پر دیہات چلانے کے وسائل نہیں ہیں۔ وسائل موجود ہیں مگر کوئی قانونی یا سیاسی نیت نہیں ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے 1920 سے اب تک کے تمام قوانین میں دیہی انتظام کمیونٹی کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت لوکل گورنمنٹ کا جو قانون موجود ہے اس کے تحت دیہات ضلع کونسل کے ماتحت ہیں۔ ستم یہ ہے ضلع کونسل کے صفائی ستھرائی کے بجٹ کو صاف ستھرا رکھا جاتا ہے اور اسے دیہات کے انتظام کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ استعمال کے لیے کوئی مستقل ادارے ہی نہیں ہیں۔ ایک سیکرٹری والی یونین کونسل ہے جو اندراجات کرتی ہے اور اگر الیکشن ہو جائیں تو منتخب نمائندوں کے اجلاس منعقد کرواتی یے۔ اس کے علاوہ کوئی بلدیہ، کوئی ڈیولپمنٹ یا ہارٹیکلچر اتھارٹی، کوئی فائربریگیڈ، کوئی واسا، کوئی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی وغیرہ کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔کچھ ڈونرفنڈڈ پائلٹ پروجیکٹ ہوتے ہیں جو چمکیں گے دیہات کا لارا لگاتے ہیں اور بس۔
عزیز دوست عبدالجبار گجر نے ضلع کونسل ساہیوال کے ایڈمنسٹریٹر سے آرٹی آئی درخواست کے ذریعے پوچھا کہ موجود مالی سال میں اس کا بجٹ کتنا تھا اور صفائی ستھرائی کی مد میں کتنا بجٹ تھا اور خرچ کتنا ہوا۔ اس ہوسٹ ساتھ جواب کا عکس لگایا گیا ہے۔
سرکاری جواب کے مطابق ضلع کی دیہی آبادی انیس لاکھ سے زائد ہے جس کے لیے ضلع کونسل کے پاس ساڑھے تین ارب روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ ہے۔ اس میں صفائی ستھرائی کی مد میں کل بجٹ پونے پانچ کروڑ روپے ہے یعنی 25 روپے فی کس۔ اب ذرا دل تھام کے سنیے کہ موجودہ مالی سال میں صفائی ستھرائی پر کتنا بجٹ خرچ ہو چکا ہے؟ صرف سات لاکھ انتالیس ہزار اور وہ بھی دو ملازموں کی تنخواہوں اور ایک مشین کی مرمت پر۔ یعنی کسی دیہی آبادی میں صفائی کے نام پر ضلع کونسل کی جانب سے ایک پیسا بھی خرچ نہیں کیا گیا۔
دوسری طرف عارفوالا جیسے نیم اربن قصبے کا بجٹ ہی دیکھیے جہاں میونسپل کمیٹی کے پاس صرف صفائی ستھرائی کا بجٹ سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپے ہے جس میں موجودہ مالی سال میں گیارہ کروڑ روپے سے زائد صرف ہو چکے ہیں۔
ایسے میں اگر یہ سوال اٹھتے ہیں کہ پنجابی کسان گندم ظلم کے خلاف اٹھ کیوں نہیں رہا تو جناب پنجاب کی دیہی آبادی کے ساتھ ریاست کے اس رویے کے بعد کسی میں اٹھنے کی طاقت ہی کہاں رہتی ہے؟







