دیہات میں چونکہ کوئی میونسپل نظام سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ ہی کوئی مستقل ادارے ہیں اس لیے وہاں پر مقامی انتظام کا دوسرا مطلب ترقیاتی کام ہیں یعنی سڑک، سولنگ ، نالی اور دیگر تعمیراتی کام جو دیہات پر سرکار کا احسان بھی بن جاتی ہیں اور سرکار کے طفیلی سیاسی و تعمیراتی ٹھیکیداروں کا چولھا بھی جلائے رکھتی ہیں۔ اس طرح کی تعمیراتی ترقی کو ایک بار کی ذمہ داری سمجھ کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ کوئی واٹر فلٹریشن پلانٹ لگ جائےیا سیوریج کے پائپ دیہات میں پہنچ جائیں، انہیں چلانا، ان کی دیکھ بھال ،معمول کی مرمت اور ان پر ہونے والے دیگر تمام اخراجات دیہات والوں کی ذمہ داری بن جاتے ہیں جبکہ شہروں اور قصبوں میں یہ ذمہ داری سرکار کے پاس رہتی ہے بیشک منتخب مقامی حکومت ہو یا نہ ہو۔ ہر ڈیزگنیٹڈ شہری آبادی کو سرکار کی طرف سے چلائے جانے والا میونسپل انتظام ملتا ہے جو ہر جگہ کسی نہ کسی درجے پر موثر ہے۔
ترقیاتی کاموں کے بوجھ تلے دبے پنجاب کے دیہات سرکاری پانی اور سیوریج کے مسائل سے جوجھتے جوجھتے خود کچراکنڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کوئی بھی لوکل گورنمنٹ نظام جب تک اس برہنہ امتیاز کا خاتمہ نہیں کرتا، گورننس کا تیسری آئینی پرت وجود میں نہیں آ سکتی ۔
دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صاف صفائی کی ذمہ داریاں گورنمنٹ اٹھائے جس طرح قصبوں اور شہروں میں باقاعدہ قائم کیے گئے اداروں کے ذریعے اٹھائی جاتی ہیں۔ اس ذمہ داری کو قانونی شکل دیے بغیر مقامی حکومتیں اور پنچایتیں بے معنی ہوں گی جو زیادہ سے زیادہ کچھ مزید ترقیاتی کام کروا کر انہیں کمیونٹی کے حوالے کر دیں گی۔ کمیونٹی کب تک سرکار کی طرف سے لادی گئی ترقی کی دیکھ بھال ، مرمت اور انہیں رواں رکھنے کے اخراجات کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ جہاں واٹر پلانٹ موجود ہے وہاں اس کی دیکھ بھال، مرمت اور بل جمع کرنے کا نظام کمیونٹی کے ذمے ہے، نکاسی آب کے لیے نالیاں سیوریج اگر موجود ہیں تو ان کی صفائی اور چلائی کمیونٹی کے ذمے۔ بجلی کا ٹرانسفارمر جل جائے تو کمیونٹی چندہ کر کے تبدیل کرائے۔ کس گاؤں میں کس درجے کا سکول ہو گا یا وہاں کس سطح کی سرکاری سہولیات موجود ہوں گی، اس کا کوئی معیار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ بس جس پر سرکار کی نظر کرم ہو جائے۔ ایسا کب تک چل سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کے نظام ہائے میں یہ بنیادی نکتہ ہمیشہ نظر انداز ہوا ہے۔ دیہات کی آبادی اور وہاں پانی و دیگر وسائل کے استعمال کے رجحانات متقاضی ہیں کہ وہاں مستقل ادارے بنیں۔ ہر دس بارہ برس دیہات کے انتظام کی ذمہ داری سے کترانے والے مقامی حکومتوں کے نظام کے لالی پاپ دیہات کو تہذیب کی کچرا کنڈی میں بدلنے سے نہیں روک پائئں گے۔
منجانب۔شعبہ نشرواشاعت ایکتا ویلفئیر سوسائٹی۔







