مارکیٹ اکانومی میں نج کاری یا پرائیویٹائزیشن کا تصور بہت مقبول ہے۔ ہمارے جیسی ریاستیں ایسے تمام کاموں اور خدمات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے میں بہت اتاولی ہوتی ہیں جس میں سرمایہ داروں کا منافع نکل سکے۔ پاکستان میں تعلیم اور صحت کی خدمات کی سرکاری شعبے سے نجی شعبے کو بتدریج اور انتہائی کامیاب منتقلی اس کی ایک مثال ہے۔پہلے سرکاری اداروں میں بدانتظامی اور کرپشن پھیلاؤ تاکہ لوگ متبادلات ڈھونڈیں اور یوں نجی شعبہ ان خدمات کو قابل خرید اشیا بنا دیتا ہے جنہیں ٹیکس کے عوض فراہم کرنا قانونی اور دستوری طور پر سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اب ان خدمات کو جوصارفین خرید سکتے ہیں ان کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں مگر جو شہری استطاعت نہیں رکھتے اس کے لیے کیا؟
اس کے لیے غیر سرکاری فلاحی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ لوگوں کو چندے اور گرانٹس کے ذریعے وہ خدمات مہیا کریں جنہیں فراہم کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ ایدھی اور شوکت خانم ٹرسٹ کا کام جتنا بھی ارفع اور اعلی ہو، انہوں نے سرکار ہی کی کمی پوری کی ہے یعنی جو کام ریاست کو کرنا چاہیے تھا وہ یہ ادارے کر رہے ہیں۔سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ ان اداروں سے خدمات کے حصول لوگ اپنا حق سمجھ کر نہیں بلکہ خیرات سمجھ کر لیتے ہیں جبکہ کسی بھی شہری تک ان خدمات کی فراہمی شہری کا حق ہے۔ خیراتی ادارے جتنے بھی بڑے ہوں وہ آبادی کے ایک حقیر سے حصے کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بہ نسبت سرکاری اداروں کے جن کے پاس آبادی کے بڑے حصے کی ضروریات پوری کرنے کے وسائل ہوتے ہیں۔
دیہات میں انتظامی بحران نے بھی بہت سے فلاحی اور کمیونٹی اداروں کو جنم دیا ہے جو خیرات کی بجائے واش یا کمیونٹی فیس کے ماڈل کے ساتھ انتظامی معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیہات کے سمندر میں ایسے چند جزیرے کامیاب ہوتے ہیں جہاں ایسے ادارے کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ ان کی اکثریت ناکام ہو جاتی ہے۔ کامیاب ادارے بھی ایک طرح سے سرکارکو ہی سبسڈائز کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ سروس ڈیلیوری والی یہ تنظمیں کمیونٹی میں یہ نظریہ راسخ کردیتی ہیں کہ بنیادی انتظامی سہولتوں کی فراہمی ان کا حق نہیں ہے بلکہ یہ کمیونٹی ہی کی ذمہ داری ہے۔ ایسی تنظیموں کو اپنی صلاحیتیں ،سروس ڈیلیوری کے ساتھ یا سروس ڈیلیوری کے بغیر، اس بات پر مرکوز کرنی چاہییں کہ وہ حکومتوں، افسروں، اداروں اور فیصلہ سازوں کو مجبور کر سکیں کہ دیہات کے انتظام کو کسی قانون کے دائرے میں لایا جائے اور دیہی انتظام کے لیے مستقل ادارے تشکیل دیے جائیں تو دیہی گورننس کے ذمہ دار ہوں ۔ ان کا سروس ڈیلیوری کا تجربہ سرکار کے ساتھ مذاکرات کے دوران بہت کا م آ سکتا ہے۔







