دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صاف صفائی کی ذمہ داریاں سرکار اٹھائے جس طرح قصبوں اور شہروں میں باقاعدہ قائم کیے گئے اداروں کے ذریعے اٹھائی جاتی ہیں۔ اس ذمہ داری کو قانونی شکل دیے بغیر مقامی حکومتیں اور پنچایتیں بے معنی ہوں گی جو زیادہ سے زیادہ کچھ مزید ترقیاتی کام کروا کر انہیں کمیونٹی کے حوالے کر دیں گی۔ کمیونٹی کب تک سرکار کی طرف سے لادی گئی ترقی کی میٹیننس کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ جہاں واٹر پلانٹ موجود ہے وہاں اس کی مینٹیننس اور بل کولیکشن کا نظام کمیونٹی کے ذمے ہے، نکاسی آب کے لیے نالیاں سیوریج اگر موجود ہیں تو ان کی صفائی اور چلائی کمیونٹی کے ذمے۔ بجلی کا ٹرانسفارمر جل جائے تو کمیونٹی چندہ کر کے تبدیل کرائے۔ کس گائوں میں کس درجے کا سکول ہو گا یا وہاں کس سطح کی سرکاری سہولیات موجود ہوں گی، اس کا کوئی معیار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ بس جس پر سرکار کی نظر کرم ہو جائے۔ ایسا کب تک چل سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کے نظام ہائے میں یہ بنیادی نکتہ ہمیشہ نظر انداز ہوا ہے۔ دیہات کی آبادی اور وہاں کے کنزمپشن پیٹرنز متقاضی ہیں کہ وہاں مستقل ادارے بنیں۔ ہر دس بارہ برس دیہات کے انتظام کی ذمہ داری سے کترانے والے مقامی حکومتوں کے نظام کے لالی پاپ دیہات کو تہذیب کی کچرا کنڈی میں بدلنے سے نہیں روک سکتے۔
گر ہیں بندر تو ملے ہم کو ہمارا جنگل
آدمی ہیں تو مداری سے چھڑایا جائے
راج اور ہماری ریاست کے اب تک آزمائے گئے تمام نظام ہائے دیہات اور چھوٹے قصبات کی انتظامی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کہانی ہے۔ دیہات میں ترقیاتی سکیمیں ریاست کا احسان ہیں، ذمہ داری نہیں اور یہ احسان بھی ریاست کے طفیلی سیاسی و تعمیراتی ٹھیکیداروں کا چولھا جلائے رکھنے کا بندوبست محض ہے۔ جن دیہات پر ریاست ترقی کا احسان یا تہمت دھر بھی دیتی ہے وہاں میونسپل نظام چلانا کمیونٹی کی ذمہ داری ہے جس کی وجہ سے پنجاب کے جمیع دیہات سرکاری پانی اور سیوریج کے مسائل سے جوجھتے جوجھتے خود کچراکنڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ہر ڈیزگنیٹڈ شہری آبادی کو سرکار کی طرف سے چلائے جانے والا میونسپل انتظام ملتا ہے جو ہر جگہ کسی نہ کسی درجے پر موثر ہے۔ کوئی بھی لوکل گورنمنٹ نظام جب تک اس میونسپل ایف سی آر کا خاتمہ نہیں کرتا، گورننس کا تیسرا ٹئیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ ایک سے موڈ آف پروڈکشن، ایک سے کنزمپشن پیٹرنز اور ایک سے ٹیکس کلیکشن رجحانات والے ایک علاقے کے لوگوں کو عزت دار سٹیزنز سمجھا جائے اور اس سے متصل علاقوں کے لوگ محض رعایا ٹھہریں، یہ کہاں کی سٹیٹ کرافٹ ہے۔۔







