پنجاب میں پچھلے چھ برس میں مقامی حکومتوں کے چار نئے قوانین بنے ہیں۔ صوبے میں آخری مرتبہ مقامی حکومتوں کے انتخابات مگر 2015 میں ہوئے تھے، یعنی کامل سوا نو برس پہلے۔ اب بے کار پڑے چوتھے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے پانچویں قانون کا مسودہ گردش کر رہا ہے اور اس کی منظوری کے ساتھ ہی چار قوانین کسی دھی پتر کے کام آئے بغیر یکے بعد دیگرے آنے والی چار حکومتوں کی نیم دلی کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ پانچویں کا جو مسودہ ادھر ادھر پھر رہا ہے وہ بجائے خود ایک معمہ ہے۔ مسودے سے مبہم سا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابات جماعتی ہوں گے، نیم جماعتی ہوں گے یا غیر جماعتی۔
مسودے کے تحت صوبہ کمال فیاضی سے پرائمری تعلیم اور صحت سمیت دس محکموں کا کنٹرول اضلاع کو منتقل کر دے گا مگر ضلع کی سطح پر کوئی مقامی حکومت تشکیل ہی نہیں دی جائے گی تو یہ ڈیوولیوشن کس کے پاس جائے گا؟ مسودے کے مطابق ڈی سی صاحب یا صاحبہ کے پاس، مگر وہ تو صوبے کے ملازم ہیں۔ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے والے اس ڈیوولیوشن سے کیا برآمد ہو گا، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ اتھارٹیاں اور بہت سی نجکاری۔
مسودے میں قسم ہا قسم کی اربن حکومتوں کے ذریعے انتہائی اہتمام سے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ میونسپل سروسز دیہی علاقوں تک نہ پہنچنے پائیں اور دیہی شہریوں کے لیے مقامی الیکشن صرف کبڈی کے میچ کی طرح کی وقتی تفریح سے آگے نہ جائیں۔
آرٹیکل 140 اے بھی خلق خدا کی طرح بڑا ہی لاوارث ہے۔







