پنجاب میں مصلی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد پر ترقی کے دروازے بند ہیں۔ نیم خانہ بدوشی اور گہری گندمی رنگت کے بعد بھٹوں، کھیتوں یا شہری مڈل کلاس کے گھروں میں غلامی نما مزدوری ان کی پہچان ہے۔ یہ شاید واحد گروپ ہے جس کے ساتھ باقی پنجابیوں کا سماجی تال میل بھی نہیں ہے۔ کھیت مزدور مصلیوں کے شناختی کارڈ نہیں بننے دیے جاتے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گائوں محلوں میں رہنے والے باقی گھرانے انہیں عیدبقرعید کی خوشیوں میں بھی شامل نہیں کرتے۔ پنجاب پولیس مصلی نوجوانوں کے تھوک کے حساب سے مقابلے کرتی اور میڈل وصولتی ہے بغیر اس خوف کے کہ ان کے قتل پر کوئی آواز اٹھے گی۔ سیاپا یہ نہیں ہے کہ افغان مہاجرین تک کو سماجی ریشے کا حصہ بنانے والا پنجاب چند لاکھ مصلیوں کو سماج کا حصہ بنانے پر کیوں راضی نہیں ہے۔ اصل سیاپا یہ ہے اس امتیاز کو جواز بخشنے کے لیے گھڑے جانے والے تعصبات پر ہم سب کو کامل یقین ہے ماسوائے چند زندہ و مرحوم کھبچو لکھاریوں اور مزدور دھڑوں کے۔ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ مصلی کسی کے دوست نہیں ہو سکتے، ان کے ہاں اخلاقیات نہیں ہوتیں اور وہ جرائم پیشہ ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان کے خلاف امتیاز، زیادتی اور تعصب کو روا جان کر خاموش اور لاتعلق رہتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ہزارہ قبائل کے خلاف کس طرح کے سماجی تعصبات بلوچستان میں پھیلائے گئے ہیں کہ ان کی منظم نسل کشی پر بھی کوئی آواز نہیں اٹھتی۔ پشتون اور بلوچ جماعتیں کسی سیاسی یا قبائلی روایت کے تحت بھی مظلومین کے سماجی تحفظ کے لیے سامنے نہیں آتیں۔ دور دیسوں میں ہونے والے ظلم کی داستانیں ہمیں پریشان کرتی ہیں کیونکہ وہ ہمارے کسی شناختی تعصب کو مہمیز کرتی ہیں مگر اپنے ہی گھر کے پچھواڑے جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض اس لیے خبر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کہ مرنے والوں کے چہروں کے خدوخال اور ان کے عقائد ہم سے کچھ الگ ہیں۔
Share this post







