کسان ایک پیداواری عامل ہے جسے معیشت اور حکومت کھلی منڈی کے اصولوں کے تحت بھی آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتی کجا کہ اسے کوئی سپورٹ ملے۔ انکم ٹیکس گزار تنخواہ دار طبقے کے حجم، معیار زندگی، فی کس آمدنی، سرکاری سرپرستی اور پیداواریت کا زرعی کارکنان کی تعداد، معیار زندگی، فی کس آمدنی، سرپرستی اور پیداواریت کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پتا چلے گا کہ پونے تین کروڑ کسانوں کی چند لاکھ پر مبنی بالائی پرت بھی تیس لاکھ کے قریب تنخواہ دار انکم ٹیکس گزاروں کی زیریں پرت سا معیار زندگی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی۔
زرعی زمین کی رئیل اسٹیٹ اور سیاسی ویلیو نہ ہو تو بڑے زمیندار اور جاگیردار بھی فارمنگ سے کئی بار توبہ کر چکے ہوں۔ آپ کسانوں اور تنخواہ دار انکم ٹیکس گزاروں کے ہیلتھ پروفائل، ان کے پاس گاڑیوں، ائیرکنڈیشنرز، ان کی سیروتفریح کی شکتی اور کھابے اڑانے کی صلاحیت کے درمیان مقابلہ کریں تو پتا چلے کہ کسان کونسی عیاشی کی زندگی گزارتے ہیں اور انکم ٹیکس گزار تنخواہ دار طبقہ کتنی کسمپرسی میں گزارا کرتا ہے۔
کسانوں کو ملنے والے قرضوں اور سبسڈیوں کی خیرات کے اعدادوشمار کو سامنے صرف اس براہ راست سبسڈی کو رکھیے جو کسان اربن طبقے کو صرف روز کے آٹے کی مد میں دیتا ہے تو یہ قرضے اور نام نہاد سبسڈیاں مونگ پھلی لگنے لگیں گی۔ گندم کی ایک تہائی پیداوار کو قابل تجارت سرپلس مانا جاتا ہے جو اربن ایریاز میں کنزیوم ہوتی ہے۔ صرف پچھلے برس کی تین کروڑ ٹن گندم کی پیداوار کے صرف ایک تہائی پر کسان کو لاگت پر خسارے اور اعلانیہ سرکاری ریٹ سے نیچے فروخت کو کیلکولیٹر میں درج کریں تو معلوم پڑے گا کہ کسان نے ڈھائی کھرب روپے سے زائد کی براہ راست سبسڈی اربن صارف کو دی جس کا ایک حصہ انکم ٹیکس گزار تنخواہ دار طبقہ بھی ہے۔ کسان کو پچھلے برس اعلان کردہ گندم کی قیمت سے کم از کم ایک ہزار روپے فی من کم موصول ہوئے۔ گنے، آلو اور چند چھوٹی فصلوں کو چھوڑ کر پچھلے برس کی گندم سے اب تک کی تمام فصلات کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو گندم کے ساتھ ہوا تھا۔ سبزیوں، پھلوں اور اجناس کی قیمتوں میں موجودہ کمی کو کسان کی بالجبر خیرات کے علاوہ کچھ اور نہیں مانا جا سکتا۔
انکم ٹیکس انکم یعنی آمدنی پر ہوتا ہے۔ کسان کو کھلی منڈی میں مقابلہ کر کے انکم حاصل کرنے دیجیے اور ٹیکس بھی وصولیے۔ کس نے روکا ہے؟ ہمارے کلرک عہدے کے انکم ٹیکس گزار تنخواہی محنت کش جو مہران گاڑی افورڈ کر لیتے ہیں، وہ ڈیڑھ سو کنال اراضی کاشت کرنے والا کسان خاندان بھی بمشکل افورڈ کرتا ہے۔ واضح رہے کہ کسانوں کی جمیع ترین اکثریت 40 کنال اراضی سے بھی کم رقبہ کاشت کرتی ہے۔
گستاخی نہ ہو تو ایک سوال ہے کہ آبیانے، سیلز ٹیکس، فصلانے، ریونیو کی قسماقسم کی فیسوں اور جنس کی خریدوفروخت پر منڈیوں کے ٹیکسوں کے اوپر آپ کسان سے انکم ٹیکس کس سہولت اور خدمت کے عوض وصول کرنا چاہتے ہیں؟ میونسپل خدمات؟ فائربریگیڈ؟ 1122؟ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی؟ پارکس اور کھیلوں کے میدان؟ قبرستان؟ بلدیہ؟ واٹر مینیجمنٹ؟ سینیٹیشن مینیجمنٹ؟ ڈیولپمنٹ اتھارٹی؟ ویسٹ مینیجمنٹ کمپنیاں اور ادارے؟ سڑکوں کے ڈھانچے کی مرمت کا انتظام؟ سوئی گیس؟ پائپڈ واٹر سپلائی؟ ایفلوئینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس؟ لائبریری؟ تھئیٹرز؟ آرٹ کونسلز؟ ان سہولیات کی عملی موجودگی تو چھوڑیے، کسی قانون میں ان کی دیہی علاقوں میں رسائی پر کوئی ایک شق دکھا دیجئے، کسان آپ سے یہ بھی نہیں پوچھیں گے کہ لاہور میں ایسا کونسا تیل نکلتا ہے کہ وہاں دس مربع کلومیٹر کے قطر میں چار ٹیچنگ ہسپتال اور دس سرکاری یونیورسٹیاں ہیں اور ان کی فعالی و بحالی و نگرانی و مستعدی کے لیے ہزاروں کا عملہ اور اربوں کے فنڈز موجود ہیں اور ایسے کتنے ادارے لاہور اور صادق آباد کے درمیان موجود ہیں؟ مردم شماری کو ابھی صرف دو برس ہوئے ہیں۔ لاہور کی آبادی اور لاہور اور صادق آباد کے درمیان بسنے والی دیہی آبادی کے اعدادوشمار بھی سامنے رکھ لیجیے گا۔ تو حضور موازنہ دو پیرللز کے درمیان ہوتا ہے۔ اربن سروسز کلاس کی پیداواریت اور ٹیکس گزاری کا موازنہ انڈیا کی سروسز کلاس سے کریں یا ملک کے صنعتی سیکٹر سے کریں۔ غیرانسانی حالات میں بنیادی ترین ضروریات زندگی کے لیے جوجھتے کسان سے کیا موازنہ کرنا۔ اس کا موازنہ زیادہ سے زیادہ اربن مزدور سے ہو سکتا ہے۔
کسان کو ٹیکس چوری کے طعنوں پر بہت سی کہاوتیں اور بلیک کامیڈی والے لطیفے یاد آ رہے ہیں یا اردو والے احباب کے لیے فیض کے وہ اشعار جس میں وہ مشت خاک جگر اور خون حسرت مئے کو دامن اور جام سے جھاڑ کر محتسبوں کو حساب دینے کی بات کرتے ہیں مگر فی الوقت یہ قطعہ زیادہ موزوں لگتا ہے۔
ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی
کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا
لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی
دل شکستہ پہ الزام بددماغی کا







