سولر پاورڈ ٹیوب ویلز کی ایک ڈائون سائیڈ یہ ہے کہ اس سے زیرزمین پانی کی پمپنگ کی رفتار لامحالہ تیز ہو جائے گی۔ بجلی کا بل یا تیل کی قیمت ایک بڑی ڈیٹرنس تھی جو ہٹ رہی ہے۔ بے تحاشہ پانی کی متقاضی چاول اور گنے کی فصلیں زیادہ اگائی جائیں گی (ایک تخمینے کے مطابق ایک کلو چاول تیار ہونے میں 2800 لٹر پانی استعمال ہوتا ہے) کیونکہ ان میں منافع زیادہ ہے یا خسارے کا اندیشہ نسبتا کم ہے۔
زیر زمین پانی کی بے تحاشہ کھنچائی کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اوپری اور درمیانی تہوں میں زیرزمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہوں گے کیونکہ انہیں دوبارہ بھرنے میں قدرت کی مدد کی کوئی انسانی حکمت عملی ہمارے ہاں اب تک نہیں بنائی گئی۔ سڑکیں، گلیاں اور صحن پکے کرنے اور ہر خالی جگہ پر تارکول یا مرمر تھوپ دینے کے خبط کے باعث بارش کا پانی زمین کے مساموں تک پہنچنے کی بجائے سیورز یا ندی نالوں تک زیادہ پہنچتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پچھلے چند برس سے طوفانی اور موسلادھار بارشیں زیادہ ہوتی ہیں جن کے پانی میں رسائو کی نسبت بہائو کی خصوصیت زیادہ ہوتی ہے۔ زمین کی رگیں تر کر دینے والی کئی دنوں پر محیط ہلکی پھلکی بارش تو اب خواب ہی بن گئی ہے۔
زیرزمین پانی کے ذخائر کے بے رحمانہ استعمال کا مطلب ہو گا کہ پنجاب میں سموگ اور دھند کا دورانیہ مزید بڑھ جائے اور ہم موجودہ بحران سے کہیں بڑی موسمیاتی قیامت کا شکار ہو جائیں۔ حل کیا ہو سکتا ہے۔ دونوں پنجابوں کی باسمتی دوڑ ختم ہو جائے، چاول اور گنے وغیرہ کی ایسی ورائٹیاں سامنے آ جائیں جو کم پانی پر پلتی ہوں، کسانوں کو فلڈنگ کی جگہ کفایتی آبپاشی پر لانے کی ترغیبات دی جائیں۔
یہ سب یا ان میں کچھ وقوع پذیر ہو جائیں یا نہ ہوں، مجھے لگتا ہے کہ سرکار کو ایک آدھ برس میں ہی ٹیوب ویل کے واٹرڈسچارج کو ٹیکس کرنا پڑے گا جو بجلی کے بل کی طرح کی ڈیٹرنس پیدا کرے۔ سیاسی طور پر شاید یہ ممکن نہ ہو کیونکہ جہاں عام کسانوں کی کوئی یونین یا تنظیم نہیں یے، وہیں ٹیوب ویل مالکان کسان اتحاد کے مختلف دھڑوں کے بینر تلے منظم ہیں اور وہ حکومتوں کو اچھا خاصا ٹف ٹائم دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔







